
|
|

|
پیشہ ورانہ تعلیم
ہندوستان کی تیزرفتار ترقی پذیر اقتصادیات کا ایک اہم عنصر اس کی ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد ی قوت ہے اور آبادی کے اعتبار سے اسے عمر رسیدہ مغربی سماج پر فوقیت حاصل ہے- مینوفیکچرنگ اور بینادی ڈھانچے کی ترقی کے لۓ کاریگر اور دستکار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کاریگروں کی طلب میں اضافہ ہورہا ہےلیکن اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ نظام میں یہ طلب پوری نہیں ہو پاتی کیونکہ ان کو فراہم کی جانے والی فنّی مہارت آجر کی ضرورتوں کے مطابق نہیں ہوتی- اس نظام کو بدلتے ہوئے تناظر کے مطاابق ڈھالنے اور آبادی کےاعتبارسے حاصل فوقیت سے ،مستقبل میں فائدہ اٹھانے کے لۓ ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیم کی فراہمی کے لۓ ایک لچکدار، پائیدار، جامع اور فعال ماڈل تیار کیا جائے۔
قومی علمی کمیشن کے زیر غور چند مسائل ہیں:
- موجودہ ادارہ جاتی نظام کا استحکام،
- مواقع میں توسیع کے لۓ متبادل نظام نجی و سرکاری شراکت،کمپیوٹرپر مبنی تربیت، فاصلاتی تدریس اور علاقائی صلاحیتوں اور ضرورتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک غیر مرکوز ماڈل کی فراہمی-
- ہنر مند افراد کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور کام گاروں کو نۓ اور غیر منظم شعبوں میں تربیت فراہم کرنا-
- ریگولیٹری ایکریڈیشن فریم ورک
- پیشہ ورانہ تعلیم اور افرادی قوت کے مابین منفی تعلق کے تدارک کے لۓ قومی سطح پر برانڈ کی ترتیب نو۔
|
|
|