قومی علمی کمیشن
حکومت ہند
  


نئی
توانائ پورٹل ھنروستان کا
پانی کا پورٹل ھنروستان کا
نئی سفارشات

  زبان
  English
  हिन्दी
  বাংলা
  മലയാളം
  অসমীয়া
  ಕನ್ನಡ
  தமிழ்
  नेपाली
  মণিপুরী
  ଓଡ଼ିଆ
  ગુજરાતી
توجہ طلب شعبے | طبی تعلیم

طبی تعلیم

ہندوستان میں طبی ماہرین کی تعداد اور طبی خدمات کی تقسیم میں نمایاں فرق ہے۔ یہ فرق نہ صرف دیہی اور شہری علاقوں میں بلکہ مختلف ریاستوں کے مابین بھی واضح ہے جس سےنمایاں تفریق کا اظہار ہوتا ہے ایسے تمام اسپتال جہاں طبی تعلیم دی جاتی ہے اور میڈیکل کالج شہری علاقوں میں واقع ہیں جہاں کل آبادی کا صرف 30 سے 35 فیصد حصہ ہی رہتا ہے- حاصل نتایج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ 60 برسوں سے عائد پروگرام یہ تفریق مٹانے میں ناکام رہے ہیں- اس لۓ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم اپنے نظام صحت میں تبدیلی لائیں تاکہ موجودہ میڈیکل کالجوں میں بہتری کے لۓ ضروری ترامیم کی جا سکیں اور ان کو طبی سائنس کے میدان میں تیزرفتارترقی کے عین مطابق بنایاجاسکے- اس کے ساتھ ساتھ موجودہ میڈیکل کالجوں میں اپنی ضرورت کے مطابق دیہا ت میں طبی تعلیم فراہم کرنے کے لۓ جدید طریقے اپناۓ جانے چاہۓ- موجودہ کالجوں میں علاقائ ضرورت کے مطابق طبّی تعلیم فراہم کی جانی چاہۓ اور ملک میں موجود میڈیکل کالجوں کے ذریعےہی دیہی علاقوں کے لۓ طبّی ماہرین تیّار کۓ جانے چاہۓ

قومی علمی کمیشن کے زیر غور چند امور:
  • نصاب، تدریس اوربنیادی ڈھانچے، انتظامیہ اور رسد سے متعلق مسائل، مشکلات اور چیلنج
  • عمومی معیارات کے فروغ، بہترین مہارت کے مراکز کے قیام کے لۓ طریقہ کار جس میں تجدید شدہ ایکریڈیشن نظام شامل ہو-
  • باصلاحیت افراد کو راغب کرنے اور ان کو کام پر جمائے رکھنے کے طریقے
  • میڈیکل کالجوں میں تحقیق کی روایت کو قائم رکھنے اور فروغ دینے کے اقدامات-
  • پیرا میڈیکل مضامین میں پیشہ وارنہ تعلیم کو مستحکم کرنا-
  • طبی تعلیم صحت عامہ اور خدمات کی فراہمی میں ہم آہنگی اور مطابقت پیدا کرنا-
  • متبادل طریقہ علاج کی تعلیم کی ترقی

More Medical Education links: قومی علمی کمیشن کے مذاکرات