قومی علمی کمیشن
حکومت ہند
  


نئی
توانائ پورٹل ھنروستان کا
پانی کا پورٹل ھنروستان کا
نئی سفارشات

  زبان
  English
  हिन्दी
  বাংলা
  മലയാളം
  অসমীয়া
  ಕನ್ನಡ
  தமிழ்
  नेपाली
  মণিপুরী
  ଓଡ଼ିଆ
  ગુજરાતી
توجہ طلب شعبے | خواندگی

خواندگی

قومی مشن برائے خواندگی 1988 میں اس مقصد سے شروع کیا گیاتھا کہ 2007 تک 15 سے 35 برس کی عمر تک ناخواندہ افراد کے لۓ 75 فیصد کام چلانےوالیی اور پائیدار خواندگی کا نشانہ پورا کیا جاسکے- اس کا انحصار علاقائی طور پر ثقافتی اور سماجی تقاریب منعقد کرکے عوام میں بیداری پیدا کرنا اور خواندگی کو عوامی سطح پر سماجی تعلیم اور بیداری کے ساتھ مربوط کرناتھا- 2001 کی مردم شماری کے مطابق خواندگی کی شرح بڑھ کر 65.38 فیصد ہو گئی ہے جبکہ 1991 میں یہ 52ء21 فیصد تھی- دس بر س کے اس عرصے میں پہلی مرتبہ ناخواندہ افراد کی تعداد میں حقیقی طور پرمی واقع ہوئی ہے- یہ تعداد 32 کڑوڑ 90 لاکھ سے گھٹ کر 30 کڑور 40 لاکھ رہ گئی ہے- البتہ قومی سطح پراوسط شرح میں ذبردست فرق ہے۔ بچے کچہے ناخواندہ ،علاقے نیز مذھب، ذات پات اور جنس کی بنیاد پر برتی جانے والی تفریق بدستور پریشانی کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ ناخواندہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کوئی بھی ملک ذی علم سماج کارتبہ حاصل کرنے کے لۓ آبادی کے ایک بڑے حصے کو ناخواندہ رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا –

قومی علمی کمیشن کے زیر غور چند امور:
  • قومی خواندگی مشن کا ازسر نو جائزہ لینا
  • خواندگی کے لۓ کثیرجہتی طریقوں کا استعمال مثلا خواندگی کے پرواگراموںمیں آئی سی ٹی کا استعمال یا کمپیوٹرپر مبنی تعلیم
  • درکار سازوسامان کی تیاّری اور تربیت
  • خواندگی میں جدید طریقوں اور خیالات کا استعمال
  • رسمی اور غیر رسمی تعلیمی نظام میں یکسا نیت

More Literacy links: قومی علمی کمیشن کے مذاکرات