
|
|

|
اعلی تعلیم
ہندوستان میں اعلی تعلیم سے مراد اسکول (12 ویں کلاس) سے آگے کی تعلیم ہے۔ اعلی تعلیم کا اہم مقصد2015 تک داخلوں کی مجموعی شرح میں 15 فیصد کا اضافہ کرنا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں اعلی تعلیم کی سطح میں دوگنے سے زیادہ اضافہ ہوجا ئگا- اس کے علاوہ کوالٹی کم کیے بغیر تعلیمی معیار کو بہتراور وسیع کرنا ہوگا تاکہ اعلی تعلیم کو یک ذی علم سماج میں ضرورتوں اور دستیاب مواقع کے مطابق بنایا جاسکے-اس بات کی ضرورت بھی شّدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ اعلی تعلیم کو ایسا بنایاجاۓکہ سماج کے تمام طبقےاس سے مستفید ہو سکیں۔
اعلی تعلیم کے بارے میں سفارشات 29 نومبر 2006 کو وزیر اعظم کو پیش کی گئی ہیں- اس رپورٹ میں تعلیمی نظام میں بہتری ، وسعت اور زیادہ سے زیادہ طلبا تک اس کی رسائی کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے- وزیر اعظم کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں قومی علمی کمیشن کی طرف سے جن مدعوں کو اجاگر کیا ہے ان میں سے چند ہیں:
- اعلی تعلیم کی کمیت اور معیار سے متعلق مسائل
- ریگولیٹری فریم ورک
- اعلی تعلیم تک رسائی
- اعلی تعلیم کو مالیہ کی فراہمی
- یونیورسٹیوں کی ادارہ جاتی تعمیر
- گورننس اور انتظامیہ
- نصاب اور امتحانات سے متعلق مواد
- اساتذہ اور تحقیق
12 جنوری کو قومی علمی کمیشن کی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا تھا ''اعلی تعلیم میں اصلاحات کے بارے میں کمیشن نے اپنی طرف سے کئی مفید تجاویز پیش کی ہیں- ان سب تجاویز پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے- میں کمیش سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ یہ تجاویزعوام کےسامنےرکھے ایک اور عام رائے قائم کرے-"
وزیر اعظم کی اس ہدایت پر قومی علمی کمیشن نے یہ رپورٹ متعدد متعلق افراد کو بھیجی جس میں مرکزی حکومت ریاستی حکومتیں، وائس چانسلر اور یونیورسٹیوں کے نمائندگان، کالج اور ان کے پرنسپل صاحبان، غیر سرکاری تنظیموں اور سماج کے زھین افراد شامل ھیں۔ اس کے علاوہ سفارشات پر غوروخوص کے لۓ متعدد قومی اور علاقائی سطح پر سیمنار بھی منعقد کرائے جارہے ہیں- اعلی تعلیم پر رپورٹ کے بارے میں فیڈ بیک کے لۓ ''جاری مذاکرات" ملا حظہ کریں-
| اعلی تعلیم کے اضافی لنک: |
سفارشات |
|
اعلی تعلیم پر جاری مذاکرات |
|
|
|