قومی علمی کمیشن
حکومت ہند
  


نئی
توانائ پورٹل ھنروستان کا
پانی کا پورٹل ھنروستان کا
نئی سفارشات

  زبان
  English
  हिन्दी
  বাংলা
  മലയാളം
  অসমীয়া
  ಕನ್ನಡ
  தமிழ்
  नेपाली
  মণিপুরী
  ଓଡ଼ିଆ
  ગુજરાતી
توجہ طلب شعبے | انجئیرنگ کی تعلیم

انجئیرنگ کی تعلیم

ہندوستان نے 2005 میں 415000 انجئنیر تیار کئے۔ اگرچہ یہ ایک بڑی تعداد ہے لیکن یہ مطلوبہ تعداد سے کہیں کم ہے- اگلے عشرہ میں ہندوستان کو مینوفیکچرنگ اور انجینئرنگ خدمات کی شکل میں دو اہم مواقع دستیاب ہونگے- ان مواقعوں کا بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے ہندوستان کوانجئینروں کی تعداد مں اضافہ کرنا ہوگا اور معیار میں سدھار لانا ہوگا-

چند اعلی اداروں کو چھوڑ کر ہندوستان میں انجینئرنگ کی تعلیم فرسودہ اور نامناسب ہے- بیشتر فارغ التحصیل افراد کے اندر، معاشی مسابقت کے لۓ مطلوبہ مہارت کافقدان ہوتا ہے اور صنعتوں کو مہارت کی کمی درپیش ہے- اس کے علاوہ ممتاز اداروں سمیت زیادہ تر ادارے اساتذہ کو راغب کرنے ان کو ملازمت پربرقرار رکھنے میں نا کام رہے ہیں- تکنیکی اور انجئینرنگ کی تعلیم میں ان خامیوں سے یہ خد شہ پیدا ہوتا ہےکہ ہندوستان ان مواقع کا فائدہ نہیں اٹھا سکے گا- قومی علمی کمیشن مندرجہ ذیل مسائل پر غور کریگا-
  • نصاب، تدریس، بنیادی ڈھانچے، انتظامیہ اور رسائی سے متعلق خامیاں، مسائل اور چیلنج-
  • باصلاحیت اساتذہ کو راغب کرنے اور ان کو برقرار رکھنے کے طریقے-
  • صنعت کی شراکت سے تحقیق کو فروغ دینے اور اس کو مستحکم کرنے کے طریقے
  • اداروں کی خود مختاری اور جوابد ہی سے متعلق امور
سماج کے وسیع تناظر میں، تکنیکی تعلیم میں مہارت کو فروغ دینے اور معیارات کو بہتر بنانے کے متنوع طریقے-