
|
|

|
روایتی علم کے بارے میں سروے
روایتی علم کے مندرجہ ذیل پہلووں پر قومی علمی کمیشن غور کررہا ہے:
- اصول اوروہ بنیادی جگہیں جہاں ہمارے روایتی علم کی دستاویزات کاری اوراسکا استعمال ہو یعنی ہماری تخلیقی، ثقافتی اور موروثی صنعتیں-
- جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویہ جنکے4000 نسخے ہمارے پاس موجود ہیں اورجو آیوروید، یونانی، سدّھ ، تبّتی طریقہ علاج جنکے دستاویزی ثبوت موجودہیں نیز قبائلی طبی طریقہ علاج سے تعلق رکھتے ہیں۔
- روایتی زرعی طریقے جن میں سے 4502 کی آئی سی اے آر نے جلدوں کی ایک سیریز میں دستاویز کاری کی ہے- ان میں سے دسمبر 2005 تک 86 کی توثیق اور 38 کی دیگر اداروں سےتوثیق کیجاچکی ہے ۔
- ہماری مطبخی روایات جن میں لگ بھگ 150 دستاویزی سبزیاں اور اتنی ہی تعداد میں پھل استعمال کیے جاتے ہیں اور جن کے بارے میں تغذیاتی اور دیگر معلومات دستیاب ہیں-
- ثقافت سے متعلق مخصوص سیاحت، مثال کے طور پر قبائلی فنون کے مراکز کی نشاندہی کے ذریعے مقامی مظاہراتی فنون کو فروغ دینا- اور ملک میں موجود غیر معمولی نوعیّت کے مقامات اورر سومات کاسیاحت کے لۓ استعمال کرنا-
- پانی کو محفوظ کرنے کے روایتی طریقے جن کی پوری طرح دستاویز کاری کی جاچکی ہے مثال کے طور پرسی ایس ای نئی دہلی کے ذریعے شائع کتاب میں-
- ہماری وہ مصنوعات ،خدمات، اور فنون جومذکورہ بالا میں شامل نہیں یں-
ہماری ثقافتی تخلیقی اور موروثی رسوم کی اصولی طور پر تجارت کاری جن کے اندر کم ازکم 10 کروڑ لوگوں کے لۓ روزگار کی تشکیل اور کم ازکم چھ لاکھ کروڑ روپے سالانہ کے محصول کی گنجائش ہے-
|
|
|