اس بات کی یقین دہانی کے لیے کہ قومی علمی کمیشن کی سفارشات ممکنہ طور پر زیادہ وسیع پیمانے پر خیالات کی عکاسی کریں۔ ایک ضروری جزکے بطور کمیشن کا طریقہ کار متعدد اور مختلف متاثرہ افراد کے ساتھ مذاکرات کرناہے- اس مقصد کے لیے قومی علمی کمیشن نے ورکنگ گروپ اور کمیٹیاں قائم کی ہیں اور متعدد ورکشاپوں اور سمیناروں کا انعقاد کیا ہے نیز سروے کرائے ہیں- ورکنگ گروپ ایسے شعبوں میں قائم کیے گئے ہیں جس میں ماہرین کی اعلی سطح اور زیادہ مدت کی ضرورت ہوتی ہے- سیمناروں، ورکشاپوں اور پرمغز نشستوں میں مشاورت کا آذادانہ موقع ملتا ہے- ملک میں جائزوں کے ذریعے قومی علمی کمیشن نے زیادہ وسیع پیمانے پر رابطے قائم کرنے کی کوشش کی ہے